توہین آمیز خاکوں کی اشاعت....امت مسلمہ کیلئے چیلنج

جدید واقعات کے بارے میں جانکاری و معلومات دی جائے گی۔

توہین آمیز خاکوں کی اشاعت....امت مسلمہ کیلئے چیلنج

مراسلہاز: عبداللطیف بتاریخ: پیر فروری 22, 2010 2:24 pm

عالم اسلام کے خلاف محاذ آرائی اورتصادم کیلئے عالم کفر کی طرف سے قرآن حکیم اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخیاں کرنے کی داستان عشروں نہیں بلکہ صدیوں پرمحیط ہے یورپ نے پہلے بھی کئی مرتبہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کیلئے ایسی گھٹیا حرکتیں کی ہیں اوراب پھر 8جنوری 2010ء کو دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کیے ہیں خاکے تو انہوں نے پہلے بھی شائع کئے تھے قرآن کی بے حرمتی انہوں نے پہلے بھی کی لیکن اب گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے نارویجن اخبار آفتن پوستن کی گستاخ ایڈیٹر خاتون نے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کوچیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”مجھے یقین ہے کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر اب کوئی ٹھوس ردعمل نہیں آئیگا“ خاکوں کی اشاعت کے بعد چند دنوں میں یہ سب کچھ بھول جائیں گے اب مسلمانوں کے اندر ناموس رسالت کے تحفظ کیلئے مرمٹنے والی کوئی بات نہیں رہی اب کوئی حرمت رسول کابدلہ لینے نہیں آئیگا کون ہوگا جونبی کی حرمت پرجان دے مسلمان اب توہیں رسالت کی عادی ہوچکے ہیں ان کے ضمیر سے محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم غائب ہوچکی ہے ہم پوری دنیا میں مسلمانوں کوچیلنج کرتے ہیں کہ اس مرتبہ پہلے کی طرح کوئی مضبوط ردعمل نہیں آئیگا کفار اس طرح کی مذموم حرکتیں کرکے مسلمانوں کو بے حس بنانا چاہتے ہیں لیکن وہ اس عامرچیمہ شہید کو بھول گئے ہیں جس کی شہادت نے ثابت کر دیا کہ ”عزت سے جیئے توجی لیں گے یا جام شہادت پی لیں گے“
ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا چاہئے کہ اگر دنیا میں نبی کی حرمت محفوظ نہیں ہے تو ہمیں جینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ہماری عزت نبی کی حرمت کے تحفظ ہے ہمارا جینا، مرنا سب کچھ نبی کی حرمت کیلئے ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا لخت جگر فوت ہوا تو وہ اسے ہاتھوں میں اٹھائے رو رہے ہیں دوسری طرف گستاخ رسول طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں اور خوشیاں منا رہے ہیں ابوجہل بولا! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جڑ یعنی نسل کا خاتمہ ہو گیا ہے اب اس دنیا میں ان کا کوئی نہیں رہا کوئی ان کی نبوت کو آگے نہیں بڑھائے گا اور کسی دن خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی وفات پا جائیں گئے تو کچھ دنوں کے بعد اس دنیا میں (نعوذبااللہ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لینے والی کوئی نہیں ہوگا ان کی وفات کے ساتھ ان کا دین بھی ختم ہو جائے گا جب ان کا کوئی بیٹا ہی نہیں رہا تو یہ اکیلے کیا کر سکتے ہیں گستاخ رسول اس طرح کی باتیں کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حوصلے دے رہے ہیں کہ ”ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمایا ہے ان گستاخوں کی پرواہ نہ کرنا بس اپنے رب کی عبادت کرو قربانی دو میں رب العزت یقین دلاتا ہوں کہ تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے۔ (الکوثر)
اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ چودہ سوسال گزر چکے ہیں آج ابوجہل کانام لینے والا کوئی نہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے لوگوں کا شمار کرنا بھی ممکن نہیں ہے ابوجہل کی نسل کا تو نام ونشان مٹ گیا اس دنیا میں کوئی شخص اپنے بیٹے کا نام ابوجہل رکھنے کو تیار نہیں اسکا نام باقی نہیں رہا ان شاءاللہ عنقریب ہی آج کے گستاخان رسول بھی اس دنیا سے مٹ جائیں گے نبی کے گستاخ کو تو اللہ کی زمین بھی قبول نہیں کرتی اگرنبی کا مذاق اڑایا جائے اور اسلام کی بے حرمتی کی جائے تو آسمان پر اللہ کا غضب بھڑکتا ہے
اس دنیا میں اگر سب سے زیادہ شان کے لائق اگر کوئی ذات ہے تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے چودہ سو سال سے نبی کے دیوانے اذانیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دورد پڑھتے ہوئے روزبروز بڑھتے جا رہے ہیں اس دنیا میں ہر کوئی محمد کا نام اپنے نام کے ساتھ لگانے میں فخر محسوس کرتا ہے کافر سمجھتے ہیں کہ وہ گستاخانہ خاکے شائع کرنے جیسی حرکتوں سے مسلمانوں کو بے حس کر دیں گے اور ان کے دماغوں سے غیرت ایمانی کونکال دیں گے مگر انکے سب حربے ناکام ہو رہے ہیں قرآن پاک اور سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کر کے مسلمان ہو رہے ہیں صلیبیت اور عسیائیت سکٹرتی جا رہی ہے معیشت انکی تباہ ہو رہی ہے اسلام کی تعلیمات کے چراغوں کو پھونکوں سے نہیں بجھایا جا سکتا ہے
مرنا تو مقدر ہے اسلام پہ جاں دیں گے
نبی کی حرمت کی خاطر ہم اپنا تن من لٹادیں گے
ڈنمارک اور ناروے کے اخبارات نے جب پہلی مرتبہ گستاخانہ خاکے شائع کئے تو جماعةالدعوة نے مذہبی وسیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر تحریک حرمت رسول کی بنیاد رکھی اس پلیٹ فارم سے پوری دنیا میں احتجاج ہوا جس کے نتیجہ میں یہ سلسلہ کافی حدتک رک گیا اب ایک بار پھر نارویجن اخبار نے اپنی حکومت کی سرپرستی میں مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی ہے تو تحریک حرمت رسول ایک بار پھر پورے ملک میں بھرپور انداز میں تحریک شروع کر رکھی ہے
حال میں تحریک حرمت رسول نے مقامی ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں تحریک حرمت رسول کے کنوینئر مولٰنا امیر حمزہ، جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل قاری زوار بہادر، جمعیت اہلحدیث کے ناظم اعلیٰ علامہ ابتسام الہی ظہیر، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے نائب امیر علامہ زبیر احمد ظہیر، تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر اعجاز احمد چوہدری، جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولٰنا محمد امجد خان، جے یوآئی کے رہنما مولٰنا سیف الدین سیف، شیعہ پولیٹیکل پارٹی کے چیئرمین علامہ سید نوبہار شاہ، تحریک منہاج القرآن کے نائب امیر علامہ علی غضنفر کراروی، جماعت الدعوة کے مرکزی رہنما قاری محمد یعقوب شیخ اور مجلس احرار کے رہنما مولٰنا قاری محمد یوسف احرار ودیگر نے شرکت کی دینی وسیاسی جماعتوں کے رہنماوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران واضح طور پر یہ اعلان کیا کہ ہم گستاخ کارٹونسٹ پر قاتلانہ حملہ کرنے والے مسلم نوجوان کے ساتھ مکمل یکجہتی کااظہار کرتے ہیں توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت کے خلاف ملک گیر تحریک چلائی جائے گی اور توہین رسالت کے واقعات کی روک تھام کے لئے بین الاقوامی سطح پر قانون سازی کی کوششیں کی جائیں گی بعدازاں تحریک حرمت رسول نے پریس کلب کے باہر ایک بڑے مظاہرہ کابھی اہتمام کیا اور پریس کلب سے ناصرباغ تک ایک بڑی ریلی نکالی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تحریک حرمت رسول کی جانب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے تحفظ کیلئے کردار ادا کرنا ناقابل تحسین ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ وکلا، طلبا، تاجروں اور صنعتکاروں سمیت تمام مذہبی وسیاسی جماعتیں یکجان ہو کر حرمت رسول کے تحفظ کیلئے بھرپور کردار ادا کریں یہ کسی ایک جماعت اور تنظیم یااپوزیشن اور حکومت نہیں سب مسلمانوں کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لئے ہر مسلمان کو آگے بڑھ کر کردار ادا کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں۔
عبداللطیف
 
مراسلات: 211
تاریخ شمولیت:: ہفتہ جنوری 10, 2009 6:23 pm

واپسی بجانب حالات حاضرہ

کون متصل ھے

فورم پر موجود اراکین: کوئی مندرج اراکین متصل نہیں ہیں اور 1 مہمان

cron